ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کسانوں نے مودی حکومت کی تجاویز کو کیا مسترد،، مظاہرہ جاری رکھنے کسانوں کا فیصلہ

کسانوں نے مودی حکومت کی تجاویز کو کیا مسترد،، مظاہرہ جاری رکھنے کسانوں کا فیصلہ

Tue, 01 Dec 2020 23:33:50    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کسان لیڈروں نے مودی حکومت کی تجاویز کو مسترد کرتےہوئے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  مرکز کی مودی حکومت کے درمیان ہوئی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت کے نمائندوں کے ذریعہ کچھ تجاویز پیش کیے گئے تھے جنھیں کسان لیڈروں نے مسترد کر دیا اور وہ اس بات پر بضد رہے کہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا جائے کیونکہ یہ کسان مخالف ہیں۔ میٹنگ کے بعد فیصلہ لیا گیا کہ 3 دسمبر کو ایک بار پھر کسان لیڈران اور حکومتی نمائندوں کے درمیان اگلے دور کی بات چیت ہوگی۔

منگل کو ہوئی میٹنگ میں شامل تقریباً 35 تنظیموں کے کسان لیڈران نے زرعی قوانین کے تعلق سے کوئی قابل قبول حل نکلنے تک مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا کہ 6 دنوں سے جاری کسان تحریک بدستور جاری رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے منگل کو تین وزراء نریندر سنگھ تومر، پیوش گویل اور سوم پرکاش نے کسان لیڈران کے مسائل سنے اور کہا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں کچھ کسان لیڈران اور زرعی ماہرین شامل ہوں، لیکن کسانوں نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ کسی  کمیٹی کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف پنجاب یا ہریانہ کے کسانوں کی بات نہیں ہے بلکہ پورے ہندوستان کے کسانوں کی بات ہے اور سبھی متفقہ طور پر فیصلہ لیں گے۔

میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’آج کسان یونین کے لیڈران کے ساتھ تیسرے دور کی بات چیت ختم ہوئی اور بات چیت کافی کامیاب رہی، جمعرات کو چوتھے مرحلہ کی بات چیت ہوگی جس میں کسان اپنے مسائل لے کر آئیں گے اور ان پر نکتہ وار گفتگو ہوگی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمارا کہنا تھا کہ ایک چھوٹا گروپ بات چیت کے لیے بنے لیکن کسانوں نے کہا کہ سب سے بات ہونی چاہیے۔ ہمیں کسانوں کی اس بات سے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہماری کسان بھائیوں سے اپیل ہے کہ تحریک کو ختم کریں اور بات چیت جاری رکھیں۔‘‘

دوسری طرف کسانوں نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ کسان تحریک اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک زرعی قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے، یا پھر ان کا کوئی قابل قبول حل نہیں نکل جاتا۔ میٹنگ کے بعد کسان لیڈران نے کہا کہ ’’تحریک جاری رہے گی، کیونکہ تینوں زرعی قوانین ہمارے لیے ڈیتھ وارنٹ ہے۔ حکومت مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹی کمیٹی بنائی جائے۔ لیکن یہ کسی ایک ادارہ کی بات نہیں ہے، پورے ہندوستان کی بات ہے، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ حکومت چھوٹی کمیٹی بنا کر تحریک کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا چاہتی ہے۔‘‘


Share: